Friday, June 12, 2020

نظام لوہارانگریز سلطنت سے ٹکرانے والے ایک مردِ مجاہد کی داستان




جنگ آزادی نزدیک تھی ، انگریز پنجاب میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہے تھے۔ انگریزوں کی مزیدپیش قدمی روکنے کے لئے کسی بڑی مزاحمتی تحریک کی ضرورت تھی۔  نظام لوہار ۱۸۳۵؁ ءکو تن تارن ضلع امرتسر کے ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ نظام ایک غریب و انسان دوست محبِ وطن تھے۔  غریب عوام پہ انگریز انتظامیہ کا ظلم و ستم نظام کے من میں انتقامی جذبہ بھڑکا رہا تھا۔   نظام نے جابر اور ظالم حکومت کے خلاف حفیہ تحریک  کا آغاز کیا۔ ابتدا میں تو وہ چھوٹی موٹی خفیہ کا روائیاں کرتے رہے۔انگریز انتظامیہ کو نظام پہ شک تھا مگر  ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کے خلاف کاروائی کرنے سے گریز کرتے رہے۔ اس تحریک نے شدت اس وقت اختیار کی جب  انگریز پولیس نے ایک شام نظام کے گھر پہ چھاپہ مارا۔   نظام  گھر پہ موجود نہیں تھے۔ ان کے گھر سے بہت سارا اسلحہ اور ہتھیار برامد ہوئے۔ انگریز افسر نے ان کی بہن سے جبری زیادتی کی۔ نظام کی والدہ اس صدمے کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ نظام کو جب اس واقعے کی خبر ہوئی تو اس نے اپنی بہن کی شادی اپنے دوست شفیع کے ساتھ کردی۔

اگلی رات نظام پولیس تھانے پر قہر بن کر ٹوٹا۔ حملہ اتنی شدت کا تھا کہ کئی انگریز پولیس اہلکار بشمول وہ پولیس افسر (جس نے نظام کی بہن سے زیادتی کی تھی)اور ایک اور ایس ایس پی واصلِ جہنم ہوئے۔  یہ خبر پورے امرتسر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ بچے بڑے ،مردوزن ہر ایک کی زبان پہ نظام کی بہادری وشجاعت کے چرچے تھے۔ ہر ایک نے دل کھول کر نظام کی اس کاروائی پہ اؐسے داد دی اور خراجِ تحسین پیش کیا۔ پورے امرتسر میں یہ طے پایا کہ جو بھی نظام کی  مخبری کرے گا اس کےگھر کو آگ لگا دی جائے گیااور اس کی زمین پہ قبضہ کیا جائے گا۔ اس کاروائی کے بعد نظام انگریزوں پہ اپنی دھاک بیٹھانے میں کامیاب ہو گیا۔

چند دن بعد نظام نے ایک اور فوجی چھاؤنی پہ حملہ کیا اور بہت سے قیدیوں کو رہا کروایا۔ رہا ہونے والے قیدیوں میں سر فہرست ان کے قریبی دوست سوجا سنگ تھے۔ اس کے بعد دونوں دوست  ملکر انگریزوں کر خلاف ایک سے بڑھ کر ایک بڑی کاروائی کرنے لگے۔  اس تحریک نے اس وقت مزید جان پکڑی جب قصور کے ایک نوجوان جبرو جٹ نے اس میں شمولیت اختیار کی۔ اس تحریک کا نام بدل کر پنجاب چھڈو تحریک رکھ دیا گیا۔اس تحریک میں پورے پنجاب سے کئی ہزار نوجوان شامل ہوئے۔ اور ملکر پوری آب و تاب سے انگریز سامراج کے خلاف بر سر پیکار ہوئے ۔ اس کے نتیجے میں کئی سو انگریز فوجی مارے گئے  اور ان سے لوٹی ہوئی دولت غریبوں اور دولتمندوں میں بانٹ دی گئی۔

یہ تحریک انگریزوں کے لئے مسلسل دردِ سر بنتی جا رہی تھی، انہوں نے تحریک کچلنے کے لئے کئی سازشیں رچائی۔ جب کوئی بھی سازش کارگر ثابت نہ ہوئی تو ایک خوبصورت فاحشہ عورت کو آلہَ کار بنا کر میدان میں اتارا گیا۔ یہ عورت سوجا سنگ کو اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہوگئی۔ جوں جوں سوجا اس عورت کے عشق کے دلدل میں دھنستا جا رہا تھا ویسے ہی وہ اپنے فرض سے غافل ہوتا جا رہا تھا۔ تحریک کی ذمہ داری تو درکنار وہ اپنی ماں کی داد رسی کرنے سے بھی قاصر تھا۔ نظام کو جب اس کی خبر ہوئی تو وہ فورااس کی ماں کی خبر گیری کرنے اس کے گھر چلے گئے۔ وہاں سوجے کی غفلت اوراس کے عشق کے کھیل کا  جب نظام کو علم ہوا تو اس نے فورا سوجے کو طلب کیا اور اس کی محبوبہ کے سامنے اس کی ڈانٹ ڈپٹ اور سرزنش کی۔ یہ بات سوجے کو نہایت ہی ناگوار گزری، اسکی محبوبہ نے موقعہ کو غنیمت جا نتے ہوئے سوجے کو نظام کی مخبری کے لئے اکسایہ۔ سوجے کو پتہ تھا کہ نظام اس کی والدہ کی تیمارداری کے لئے ہر ہفتے اس کے گھر آتا رہتاہے۔ سوایک دن جب نظام اس کی ماں کی عیادت کرنے اس کے گھر آیا تو اس نے اپنی محبوبہ کے زریعے انگریز انتظامیہ کو خبر کردی۔    انگریز فوج نے نظام کو اسی گھر میں محصور کر دیا۔ نظام اڑتالیس گھنٹے تک انگریز فوج کے ساتھ لڑتا رہا۔آخر کار  نظام دشمن فوج کو چکمہ دے کر فرار ہونے ہی والا تھا  کہ اس کا تیزرفتار گھوڑا ایک کھڈ میں گر گیا۔ نظام کا سر قریب ایک آہنی سخت درخت کے تنے سے ٹکرایا اور وہ بے ہوش ہو گیا اور انگریز فوجیوں نےاپنی بندوقوں سے اس کے جسم کو چھلنی کردیا۔ یوں اس مردِ مجاہد ، جرأت وشجاعت کے پیکر نے اپنی جان، جانِ آفرین کے سپرد کردی۔

انگریز فوج نے سوجے کو گرفتار کر لیا اور زندان میں ڈال دیا۔ سوجے کی ماں کو جب خبر ہوئی کہ سوجا ہی نظام کی شہادت کا باعث بنا تو وہ اپنے بیٹے سے ملنے زندان میں چلی گئی اور وہاں پہ موجود ایک سپاہی سے تلوار چھین کر اپنے بیٹے(سوجے)کا سر قلم کردیا۔ اس طرح سوجا اپنے انجام کو پہنچا۔ نظام کا جسدِخاکی اس کے عقیدت مندوں کے حوالے کیا گیا۔ نمازِ جنازہ کا عام اعلان ہوا ۔ انگریز انتظامیہ نے جنازے میں شرکت کے لئے دو روپے فی کس ٹیکس مختص کیا ، اس کے باوجود عقیدت مندوں اور چاہنے والوں کے ایک جم غفیر نے جنازے میں شرکت کی۔ اس کے جنازے میں شرکت کی مد میں اس وقت ۷۳ ہزار روپے کی خطیر رقم جمع ہوئی۔ نظام لوہار وہ بہادرمسلمان  سپاہی تھے جنہوں نے رہتی دنیا تک اپنی شجاعت کی مثال چھوڑی ۔  ا