Tuesday, March 10, 2020

’حوا اور بنت حوا‘


حوا اور بنت حوا‘
اللہ تعالی نے فرشتوں کو حکم دیا کہ مٹی اکٹھی کر یں، مٹی اکھٹی کی گئی پھر مٹی کو گوندھا گیا، مٹی کالی ہوگئی اور بلبلے چھوڑنے لگی مٹی سے آدم علیہ السلام کا پتلا تیار کیا گیا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ پتلا 40 سال تک ننگا پڑا رہا۔ دھوپ پڑتی رہی ہوائیں چلتی رہیں اور پھر 40 سال بعد آدم علیہ السلام کے پتلے میں روح پھونکی گئی۔ آپؑ کو جنت میں بھیج دیا گیا۔ آپ ؑجنت میں سوئے ہوئے تھے۔ جب جاگے تو دیکھا ایک حسین وجمیل عورت مکمل پردے میں آپ کے پہلو میں براجماں ہیں۔ آپ ؑ نے عرض کی یا رب ذوالجلا ل یہ عورت کون ہے؟ حکم ہوا یہ تمھاری بیوی ہے عرض کیا!  یا رب العزت کیا میں اسے چھو سکتا ہوں ؟حکم ہوا پہلے مہر ادا کر لیجیے ۔پوچھا، یا اللہ مہر میں کیا ادا کروں؟ فرمایا ایک دفعہ میرے آخری بنی ﷺ پر درود پڑھ دے یوں کائنات میں مرد اور عورت کا پہلا رشتہ میاں بیوی کی صورت میں معرض وجود میں آیا۔عورت فطری طور پہ با حیا اور کمزور پیدا کی گی۔
             تاریخ میں حسن وجمال کے بادشاہ حضرت یوسف علیہ السلام اور ملکہ اماں حوا ؑگردانی جاتی ہیں۔ خالق کائنات کی اس ابتدائی انسانی تخلیق میں چند راز پوشیدہ ہیں۔ اول اللہ چاہتا تو عورت کا پتلا بھی آدم ؑ کے پتلے کے ساتھ ہی بنا دیتا وہاں تو صرف فرشتے ہی تھے، لیکن میرا اللہ شاید عورت کو پردے میں پیدا کرکے زیادہ قدر و منزلت بخشنا چاہتاتھا۔دوم،اللہ تعالی نے عورت کو بعد میں پیدا کرکے عزت و توقیر عطا کرنی تھی۔ آدم ؑکو پہلے جنت کا انعام دیابعد میں بیوی کے روپ میں دوست کی نعمت عطاکی۔جنت کا انتظار نہیں کروایا، لیکن بیوی انتظار کی مشقت جھیلنے کے بعد عطا کی۔ سوم اللہ تعالی نے اماں حواؑ کو آدم ؑکی بائیں پسلی سے پید اکیا غور کیا جائے تو بائیں جانب دل ہوتاہے اسی لیے عورت ہر روپ میں مرد کے دل میں گھر کر جاتی ہے۔ یہ روپ چاہے ماں کا ہو ،بہن ہو، بیوی ہو یا بیٹی۔عورت کو باپردہ اور خوبصورت بنایا گیا۔ اور مرد کے دل میں عورت کے لیے محبت، نرمی اور اخلاص کی حلاوت جاگزیں کی۔
              گزشتہ چنددنوں سےسوشل اورالیکٹرانک میڈیا پہ زور وشور سے میرا جسم اور میری مرضی کا موضوع زیر بحث رہا۔ اگر  اس طبقہ  کے تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو،گزشتہ سال مارچ کی آٹھ تاریخ کو پاکستان میں چند خواتین نے کچھ این۔ جی۔اوز کی سرپرستی میں نام نہاد تحفظ حقوق نسواں  کی ریلیاں منعقد کیں۔ ان مظاہروں میں حقوق نسواں کی کوئی بات تو دیکھنے کو نہیں ملی۔ہاں البتہ ان کے ہاتھوں میں موجود ہے کارڈز اور بینرز پر درج فحاشی اور بے حیائی پر مبنی جملے درج تھے جودو مقاصد واضح کررہے تھے۔ اول مرد کے خلاف بغاوت کے لیے کھڑا ہونا اور دوم خاندانی نظام (چادر اور چار دیواری) کے نظام کو درہم برہم کرنا۔
مرد ہر لحاظ سے عورت کا محسن ومحافظ رہا ہے۔ مر د کا ہر روپ عورت کے لیے پیار،محبت،تحفظ اور رہنمائی کا پیکر ہے۔ ایک بھائی اپنی بہن کی عزت کی خاطر جان تک نچھاور کر دیتا ہے۔ علم نفسیات اور عمرانیات کی سال ہا سال کی تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ باپ کا بیٹی کے لیے پیا ر لازوال اور بے مثال پیار ہے۔  ہر نیک بیٹا اپنی جنت ماں کے قدموں میں تلاش کرتا ہے۔
            خاندانی نظام نے ہی عورت کو عزت و توقیر بخشی ہے۔ آج کی بنت حوا جن حقوق کا مطالبہ کرتی ہے ذرا اُس معاشرے کا جائزہ لیجیے جن میں عورت کو یہ حق آزادی دی گئی ہے۔ امریکہ میں یورپ کی نسبت جنسی آزادی کچھ کم ہے لیکن اس کے باوجود ہر سال دس سے بیس سال کی عمرکی دس لاکھ لڑکیاں اس معاشرے میں بغیر شادی کے مائیں بن جاتی ہیں۔پھر یہ نو عمر لڑکیاں ساری زندگی تعلیم چھوڑ کر اکیلی اسی اولاد کی پرورش کرتی ہیں۔ اس معاشرے میں عورت کی حیثیت محض ایک کھلونے کے برابر ہے۔ اسلامی معاشرہ ہی عورت کا بہترین محافظ ہے۔
 عورت کو وہ تمام حقوق حاصل ہونے چاہیں جن سے اس معاشرے نے ماں، بہن، بیٹوں کو محروم کیا ہے۔ مثلا تعلیم کا حق، وراثت میں حق، پسند کی شادی، ظلم وجبر اور تشدد کے خلاف احتجاج کا حق۔ مگر تعلیم کی آڑ میں بہن بیٹیوں سے حیا و چادر کا حسن نہ چھینا جائے۔حیا ہی عورت کا حسن و زیور ہے۔

1 comment:

  1. عورت کو عزت دی گئی ہے اور مرد کو عزت خود خریدنا پڑتی ہے
    So being woman we have to recognize our respect not to show it on the posters & it can never be gain by protesting and by any other way like you do now_a_days

    ReplyDelete